بنگلورو،29/اپریل (ایس او نیوز) وزیر برائے دیہی ترقیات و پنچایت راج کرشنا بائرے گوڈا نے الزام لگایا ہے کہ الیکشن کمیشن انہیں اپنے فرائض منصبی ادا کرنے کی اجازت نہیں دے رہا ہے- گوریاست کو قحط سالی اور پینے کے پانی کی قلت کا سامنا ہے- گوڈا نے کہا کہ ہفتہ کو انہیں قحط سالی کی صورتحال کا جائزہ لینے ضلع پنچایتوں کے چیف ایکزی کیٹیو افسروں کی میٹنگ کی صدارت کرنے کی اجازت نہیں دی گئی- اس کے بجائے دیہی ترقیات و پنچایت راج کے پرنسپل سکریٹری کو میٹنگ کی صدارت کرنے کی اجازت دی گئی-ایک ٹوئیٹ کرتے ہوئے بائرے گوڈا نے سوال کیا ”کئی تعلقہ جات میں شدید قحط سالی ہے- الیکشن کمیشن نے مجھے دیہی ترقیات و پنچایت راج کے وزیر کی حیثیت سے اپنی خدمت انجام دینے اور پینے کے پانی اور ملازمتی پروگرام کے تعلق سے صورتحال کا جائزہ لینے ضلع پنچایتوں کے سی ای اوز کے ساتھ میٹنگ کرنے کی اجازت نہیں دی- کیوں؟“ انہوں نے لکھا ”کرناٹک میں 18اور 23اپریل کو دو مرحلوں میں لوک سبھا انتخابات ہوئے- کرناٹک میں انتخابات ختم ہوگئے ہیں - کیا قوانین ایک بہتر حکمرانی کے لئے نہیں ہیں؟“ گوڈا نے کہا کہ ہفتے کی میٹنگ دو ہفتے پہلے طے ہوئی تھی- یہ ان کے ماہانہ جائزے کا ایک حصہ ہے-انہوں نے کہا ”لوک سبھا انتخابات سے عین قبل ہم نے کثیر فنڈز جاری کئے- ربیع، خریف قحط زدہ تعلقہ جات کے لئے 50 لاکھ روپئے، ربیع قحط زدہ تعلقہ جات کے لئے 25لاکھ روپئے اور غیر قحط زدہ تعلقہ جات کے لئے 10لاکھ روپئے جاری کئے ہیں - انہوں نے کہا کہ متواتر قحط کے سالوں اور گھٹتی ہوئی زیر زمین پانی کی سطح کے نتیجے میں ریاست کے کئی حصوں میں پینے کے پانی کی شدید قلت پیدا ہوگئی ہے- انہوں نے کہا کہ اعداد بتاتے ہیں کہ کل 1,112 دیہاتوں کو ٹینکروں کے ذریعہ پانی فراہم کیا جارہا ہے- گوڈا لوک سبھا انتخابات کی زبردست مہم چلانے کے بعد 20/اپریل کو اپنے دفتر کو گئے-